ڈپریشن ذہنی صحت کا ایک سنگین دشمن ہے جو بہت سی مختلف وجوہات کی بنا پر کسی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ آج کے دور میں طبی تشخیص کو مثالی یا رومانوی بنا کر پیش کرنا، خاص طور پر نوعمروں میں، نہایت تشویش ناک ہے۔
ماہرین کی تشخیص کردہ حقیقی کلینیکل ڈپریشن کوئی معمولی بات نہیں۔ شدید صورتوں میں یہ المناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی صورت حال سے بچنے اور اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آج ہم ڈپریشن کے بارے میں پانچ بنیادی حقائق پر بات کریں گے۔
حقیقی کلینیکل ڈپریشن کیا ہے؟
حقیقی کلینیکل ڈپریشن اس کیڑے کی طرح ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے، اور اگر کسی قریبی شخص میں اس کی ابتدائی علامات نظر انداز کر دی جائیں تو حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈپریشن ایک ذہنی عارضہ ہے۔ یہ بات ہی خاصی تشویش ناک ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد ڈپریشن کا شکار ہیں، اور ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہر متاثرہ شخص ڈاکٹر تک نہیں پہنچتا۔
ڈپریشن کی بنیادی علامات
ابتدا میں ڈپریشن کی پہچان ان علامات سے ہو سکتی ہے:
- بے حسی: اردگرد ہونے والی ہر بات سے مکمل لاتعلقی اور الگ تھلگ رہنا۔
- لذت محسوس کرنے کی صلاحیت کا ختم ہونا: پسندیدہ کھانے یا ایسے مشغلے سے بھی خوشی نہ ملنا جو پہلے بہت اچھا محسوس ہوتا تھا۔
- مسلسل اداس مزاج یا کسی واضح وجہ کے بغیر غمگین رہنا۔
- بھوک میں خرابی: ڈپریشن کے شکار افراد اکثر کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔
- بے سکون اور بار بار ٹوٹنے والی نیند یا نیند آنے میں مشکل۔
ڈپریشن اور اداسی میں فرق کیسے پہچانیں؟
خود یہ طے کرنے سے پہلے کہ آپ کو ڈپریشن ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈپریشن محض اداسی نہیں۔ اس حالت میں ارادے اور خواہشات تقریباً ختم ہو جاتی ہیں۔ اردگرد کی ہر چیز بری طرح غلط محسوس ہوتی ہے اور دنیا ایک ٹوٹے ہوئے کھلونے جیسی لگتی ہے۔
ڈپریشن سے گزرنے والے افراد بتاتے ہیں کہ بعد میں یہ یاد کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس حالت میں کیسا محسوس ہوتا تھا۔ اسی طرح ڈپریشن کے دوران یہ تصور کرنا بھی ناممکن سا لگتا ہے کہ اس کے ختم ہونے پر احساسات کیسے مختلف ہوں گے۔
شاید ڈپریشن کی کیفیت کو یوں واضح کیا جا سکتا ہے کہ آپ ایک خلا میں کمر کے بل لیٹے ہیں اور سینے میں پیوست نیزہ آپ کو جکڑ کر حرکت سے محروم کر رہا ہے۔ اگر اچانک پاس کوئی جن نمودار ہو کر تین خواہشیں پوچھے تو آپ پورے یقین سے صرف یہی کہیں گے کہ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔
یہ بات جیسی بھی لگے، اچھی صحبت بہت سی نفسیاتی مشکلات سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔ اچھی صحبت سے مراد ایسے لوگ ہیں جو آپ کو بار بار آپ کی حالت یاد دلانے کے بجائے مناسب انداز میں توجہ کسی اور طرف لے جائیں۔ تاہم توجہ ہٹانے کا معاملہ بھی حساس ہے۔ پاکستان میں بعض لوگ متاثرہ شخص کے سامنے اپنے مسائل رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ’میرے حالات تو آپ سے بھی زیادہ خراب ہیں، پھر بھی مجھے ڈپریشن نہیں۔‘ یہ ایک نقصان دہ غلطی ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔
اپنے الفاظ کا خیال رکھیں اور یاد رکھیں کہ ڈپریشن ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ڈپریشن بستر کے نیچے چھپے عفریت جیسا ہے جس سے خوف زدہ بھی ہوا جا سکتا ہے اور اسے دور بھی کیا جا سکتا ہے۔ قریبی شخص کا کام آپ کا ہاتھ تھامنا ہے، مگر بہتری کی طرف پہلا قدم آپ کو خود اٹھانا ہوتا ہے۔
اپنی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لیے ڈپریشن کی سطح کا ٹیسٹ مدد دے سکتا ہے۔