آج کی دنیا میں کسی بھی عمر میں خود کو تنہا محسوس نہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ سڑک پر ہر شخص اپنے کام میں جلدی میں ہوتا ہے، دفتر میں سب کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، اور قریبی لوگوں کی راہیں بھی وقت کے ساتھ خود بخود جدا ہو جاتی ہیں۔ اسے ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا، کیونکہ زندگی میں ہر ایک کا اپنا راستہ ہوتا ہے۔ تاہم اچھے تعلقات برقرار رکھنا اور بڑھاپے میں شدید تنہائی سے بچنا ممکن ہے۔ اس مضمون میں اسی بارے میں بات کی گئی ہے۔
لوگوں کے ساتھ بھلائی کریں
یہ کہنا عمل کرنے سے کہیں آسان ہے۔ تاہم بہت سے بزرگ واقعی مفید بننا اور دوسروں کے کام آنا چاہتے ہیں، اور وہ یہ کردار بہت اچھی طرح نبھاتے بھی ہیں! اہم بات یہ ہے کہ ’نیکی کرنے‘ کو دوسروں کے ذریعے اپنے ذاتی نفسیاتی مسائل حل کرنے کا طریقہ نہ بنائیں۔ نمایاں ہونے کی خواہش اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش، چاہے دفتر میں ہو یا گھر میں، دوسروں کو محسوس ہو سکتی ہے اور اکثر اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس لیے بظاہر حیرت کی بات ہے، مگر لوگوں کی خدمت اور دوسروں سے محبت کی خاطر بے غرض مدد زیادہ بہتر اثر ڈالتی ہے۔
اپنی زندگی میں تنوع لائیں
نئی سرگرمیاں تلاش کریں، ایسے کام آزماتے رہیں جو آپ کے لیے نئے ہوں، اور مشترک دلچسپیوں والے دوست بنائیں۔ خوش اخلاقی اور سماجی سرگرمی آپ کو کسی بھی حالت میں دنیا میں اکیلا نہیں رہنے دے گی، کیونکہ تنہائی صرف لوگوں کی کمی سے نہیں بلکہ مصروفیات نہ ہونے سے بھی بڑھتی ہے۔
کیا آپ کو بڑھاپے سے خوف آتا ہے؟
یہاں اس بات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے کہ ’مسئلے کو سمجھنا بعض اوقات اس پر قابو پانے میں بہت مدد دیتا ہے‘۔ آپ کے خاندان میں کون سی روایات تھیں؟ آپ کو اپنے دادا دادی یا نانا نانی کیسے یاد ہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں وہ کسی مثبت داستانی کردار کی طرح دانا، توجہ اور دیکھ بھال سے گھرے ہوئے نظر آتے ہیں تو بڑھاپے میں تنہائی کا خوف پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔
بڑھاپے کے بارے میں ہمارا تصور بچپن ہی میں بننے لگتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ خاندان میں بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں بزرگوں کو محبت اور سمجھ بوجھ نہیں ملی تو ممکن ہے کہ اسی وجہ سے اب آپ کو تنہا بڑھاپے کا خوف ہو۔ بہرحال یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، اور آپ اپنے اردگرد ویسی دنیا بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جیسی آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویسے، اپنی نفسیاتی عمر بھی معلوم کریں، کیونکہ یہ ہمیشہ شناختی دستاویز میں درج عمر کے برابر نہیں ہوتی۔
ایک اچھی مثال بنیں
ہر معاشرے میں بزرگ نسل ایک خاص کردار ادا کرتی ہے۔ وہ روایات کی امین ہوتی ہے، اپنی یادوں کے ذریعے مختلف ادوار کو آپس میں جوڑتی ہے اور زندگی کی دانائی محفوظ رکھتی ہے۔ یہ دانائی ان لوگوں کے ساتھ بانٹیں جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی تربیت میں مدد کریں، مگر اپنے بچوں کو خود مختار رہنے کا موقع دینا نہ بھولیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تجویز اور مشورہ، مطالبے یا حکم کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے قبول کیے جاتے ہیں۔
لوگوں کو ابھی سے اپنی زندگی میں جگہ دیں
دوستی یا رومانوی تعلقات کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، مگر آپ کی زندگی میں ایسے لوگ ضرور آئے ہوں گے جو آپ کو ’اپنے‘ محسوس ہوتے ہیں۔ ان سے رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ غالب امکان ہے کہ بڑھاپے میں وہ آپ کے ساتھی رہیں گے اور زندگی کے گزرے ہوئے وقت پر نظر ڈالنے کے مرحلے میں آپ کے ساتھ ہوں گے۔