ہر شخص اپنے اندر کے نقاد سے واقف ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ سستی چھوڑ کر ضروری کام کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے، جبکہ دوسروں کو روک دیتا ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں پر شک ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں تبدیلی کی طرف قدم بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر اس کی وجہ سے مزاج خراب رہتا ہے، حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کم ہونے لگتا ہے۔ اگر آپ کا اندرونی نقاد آپ کو سکون نہیں لینے دیتا اور آپ اس کے اثر سے نکلنا چاہتے ہیں تو یہ مضمون آپ کی مدد کرے گا۔ پہلے یہ جانیں کہ آپ کی عزت نفس کتنی مضبوط ہے، اس کے لیے ’کیا آپ کی عزت نفس بلند ہے؟‘ ٹیسٹ دیں۔
اندرونی نقاد کہاں سے آتا ہے؟
اندرونی نقاد ذہن میں آنے والے منفی خیالات کا مجموعہ ہے، جو خوف، شک، بے اعتمادی، گھبراہٹ اور کئی دوسرے منفی احساسات پیدا کرتا ہے۔ اندرونی نقاد عموماً یہ باتیں ذہن میں ڈالتا ہے:
- ’آپ کو یہ عہدہ نہیں ملے گا‘
- ’اس کام کی ذمہ داری نہ لیں، آپ اسے پورا نہیں کر پائیں گے‘
- ’آپ کبھی اپنا کاروبار شروع نہیں کر سکیں گے‘
- ’اگر پہلی بار کامیابی نہیں ملی تو یہ کام آپ کے لیے نہیں ہے‘
لوگ بچپن کی یادوں سے اپنے اندرونی نقاد کو مزید طاقت دیتے ہیں: والدین نامناسب باتیں کہتے یا ہر کام پر تنقید کرتے تھے، جبکہ اسکول کے اساتذہ، کوچ یا نگہداشت کرنے والے کسی غیر محتاط جملے سے دل دکھا دیتے تھے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں: ’میں جو بھی کروں، آخر میں برا ہی ہو گا‘۔
کچھ لوگوں کو اپنے اندرونی نقاد کو مضبوط کرتے رہنے میں فائدہ محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی سستی، خوف اور خود ترسی کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتے، خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔
اپنے اندرونی نقاد سے پیچھا کیسے چھڑائیں؟
پہلا مرحلہ
آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ آپ کا اندرونی نقاد آپ کے بائیں طرف کھڑا ہے۔ وہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کیا پہن رکھا ہے؟ اس کے کپڑوں کا رنگ کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی غیر معمولی خصوصیت ہے؟ اس سے کیسی بو آتی ہے؟ اس کا چہرہ کیسا ہے؟ وہ کس سے ملتا جلتا ہے؟ جب آپ اپنے نقاد کا واضح تصور کر لیں تو آنکھیں کھولیں اور کاغذ پر اس کی تصویر بنائیں۔
اپنی بنائی ہوئی تصویر دیکھیں۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اندرونی نقاد کا ایک اہم کام آپ اور آپ کے آرام دہ دائرے کی حفاظت کرنا ہے۔ جب ہم اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکلتے ہیں تو وہ بہت خوف زدہ ہو جاتا ہے اور ہر چیز کو پہلے جیسا رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ اپنے اندرونی نقاد کو سمجھ سکتے ہیں، معاف کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ سمجھوتا کر سکتے ہیں۔ اسے بچے کی طرح سمجھائیں کہ آگے بڑھنا آپ دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گا۔
دوسرا مرحلہ
اپنے نقاد کی تصویر بنانے کے بعد دوبارہ آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ آپ کے دائیں طرف ایک ایسی شخصیت موجود ہے جو نقاد کے بالکل برعکس ہے۔ یہ کوئی خاص شخص یا مختلف خوبیوں سے بنایا گیا ایک تصوراتی کردار ہو سکتا ہے۔ آنکھیں کھولیں اور کاغذ پر اس کی تصویر بھی بنائیں۔
اپنی بنائی ہوئی تصویر دیکھیں۔ نقاد کے برعکس یہ شخصیت مشکل حالات میں ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گی: آپ کو نئی چیزیں سیکھنے میں مدد دے گی، آپ کے ساتھ مل کر خوف پر قابو پائے گی، آپ پر یقین رکھے گی اور آپ کو زیادہ بہادر بنائے گی۔
تیسرا مرحلہ
ہر صبح بیدار ہونے کے بعد نقاد کے برعکس شخصیت کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں اور اندرونی نقاد کو اس کی جگہ نہ لینے دیں۔ تصور کریں کہ صبح یہ معاون شخصیت آپ سے یہ باتیں کہتی ہے:
’آپ نے اچھا کیا، چاہے… (جملہ مکمل کریں)‘
’آج آپ کامیاب ہوں گے کیونکہ… (جملہ مکمل کریں)‘
’آپ کا وقت بہت اچھا گزرے گا کیونکہ… (جملہ مکمل کریں)‘
نقاد کے برعکس معاون شخصیت کو زیادہ وقت دینے سے آپ اپنے اندرونی نقاد پر قابو حاصل کر لیں گے اور اس کا اثر آہستہ آہستہ کم ہوتا جائے گا۔ خود سے محبت کرنا شروع کریں، اپنی پسند کے کام کریں اور اپنی غلطیوں کو متوازن انداز میں قبول کریں۔ پھر آپ کا اندرونی نقاد بھی آپ کو نئے اور مفید کاموں کی طرف بڑھنے کی تحریک دینے لگے گا۔