پیراڈائم
’پیراڈائم‘ کی اصطلاح مختلف سیاق و سباق میں کئی معنی رکھتی ہے:
-
لسانیات میں پیراڈائم ایک ہی لفظ کی مختلف شکلوں کے نظام کو کہتے ہیں۔ اس میں اسماء کی حالتوں کے مطابق تبدیلیاں یا افعال کی گردان شامل ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اردو میں فعل کی مختلف شکلیں اس کا پیراڈائم بناتی ہیں۔
-
پیراڈائم کا تصور کسی مثال یا نمونے کے معنی میں بھی استعمال ہو سکتا ہے تاکہ کسی بات کو ثابت کیا جا سکے یا اس کا موازنہ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، تحقیق اور مباحثوں میں کسی خاص خیال یا تصور کی وضاحت کے لیے ایک پیراڈائم پیش کیا جا سکتا ہے۔
-
سائنسی تصور اور طریقۂ کار: تھامس کوہن کی تحریروں اور فلسفۂ سائنس کے تناظر میں، پیراڈائم ایک وسیع تر سائنسی تصور ہے جسے کسی شعبے میں بنیادی، غالب اور معیاری تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پیراڈائم کے دائرے میں کام کرنے والے سائنس دان کچھ مخصوص تصورات، طریقۂ کار اور اصولوں پر متفق ہوتے ہیں۔ جب پیراڈائم بدلتا ہے تو اس سائنسی شعبے کے بنیادی نظریات میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
-
مغربی ادب کے تناظر میں: ادب میں پیراڈائم کا تصور ’طریقۂ کار‘ یا ’مسئلے‘ کے مترادف کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، پی سٹرنبرگ کی تحقیق یا کراس ورڈ کے مسائل۔
’پیراڈائم‘ کی اصطلاح مختلف علوم اور سیاق و سباق میں الگ الگ معنی رکھتی ہے، لیکن عمومی طور پر اس کا تعلق کسی ایسے نظام یا نمونے سے ہوتا ہے جسے ثبوت، موازنے یا مخصوص تصورات یا طریقۂ کار کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔