خود ادراک کا نظریہ
خود ادراک کا نظریہ (Self-Perception Theory) سماجی ماہر نفسیات ڈیرل جے بیم (Daryl J. Bem) نے 1960 کی دہائی میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق لوگ اپنے طرز عمل کا مشاہدہ کر کے اور اس سے اپنے اندرونی رجحانات اور اپنے بارے میں تصورات اخذ کر کے اپنے رویوں اور عقائد کی تشکیل کرتے ہیں۔
خود ادراک کے نظریے کے بنیادی تصورات:
-
طرز عمل کے مشاہدے سے خود شناسی: اس نظریے کے مطابق، جب لوگ کسی معاملے کے بارے میں اپنے رویوں یا عقائد سے متعلق غیر یقینی کا شکار ہوں تو وہ اپنے طرز عمل کا مشاہدہ کر کے اس سے اپنے اندرونی عقائد کے بارے میں معلومات اخذ کر سکتے ہیں۔
-
دوسروں کے مشاہدے سے مماثلت: لوگ طرز عمل کے تجزیے کا وہی عمل استعمال کرتے ہیں جو وہ دوسرے لوگوں کے طرز عمل کا مشاہدہ کرتے وقت اپناتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی خاص صورت حال میں ایک مخصوص انداز سے برتاؤ کرتے ہیں تو اس سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ ان کے رویے یا عقائد بھی اسی سے مطابقت رکھتے ہیں۔
-
طرز عمل سے اخذ کردہ رویے: لوگ اپنے طرز عمل کا جائزہ لے کر اور اس کی بنیاد پر اپنے اندرونی رجحانات کے بارے میں نتائج اخذ کر کے اپنے رویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص دیکھتا ہے کہ وہ اکثر رضاکارانہ طور پر دوسروں کی مدد کرتا ہے تو وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ اس کا رجحان مہربانی اور مدد کی طرف ہے۔
خود ادراک کا نظریہ یہ سمجھنے میں اہم ہے کہ ہم اپنے رویوں کی تشکیل کیسے کرتے ہیں اور اپنے بارے میں ہماری سمجھ کیسے نشوونما پاتی ہے۔ اس نظریے سے یہ وضاحت کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ لوگ اپنے طرز عمل کی بنیاد پر اپنے عقائد اور رویوں کو کیوں تبدیل کر سکتے ہیں۔